ابنا: واقعہ حجاب مورخین لکھتے ہیں کہ اس واقعہ ولیعہدی سے لوگوں میں اس درجہ بغض وحسداورکینہ پیداہوگیاکہ وہ لوگ معمولی معمولی باتوں پراس کامظاہرہ کردیتے تھے علامہ شبلنجی اورعلامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام کاولیعہدی کے بعدیہ اصول تھا کہ آپ مامون سے اکثرملنے کے لیے تشریف لے جایاکرتے تھے اورہوتایہ تھا کہ جب آپ دہلیزکے قریب پہنچتے تھے توتمام دربان اورخدام آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے اورسلام کرکے پردہ در اٹھایاکرتے تھے ایک دن سب نے مل کرطے کرلیا کہ کوئی پردہ نہ اٹھائے چنانچہ ایساہی ہوا جب امام علیہ السلام تشریف لائے توحجاب نے پردہ نہیں اٹھایامطلب یہ تھا کہ اس سے امام کی توہین ہوگی، لیکن اللہ کے ولی کوکوئی ذلیل نہیں کرسکتاجب ایساواقعہ آیاتوایک تندہوانے پرداہ اٹھایااورامام داخل دربارہوگئے پھرجب آپ واپس تشریف لائے توہوانے بدستورپردہ اٹھانے میں سبقت کی اسی طرح کئی دن تک ہوتارہا بالآخرہ وہ سب کے سب شرمندہ ہوگئے اورامام علیہ السلام کی خدمت مثل سابق کرنے لگے (نورالابصارص ۱۴۳ ،مطالب السؤل ص ۲۸۲ ،شواہدالنبوت ص ۱۹۷) ۔ حضرت امام رضاعلیہ السلام اورنمازعیدولی عہدی کوابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ عیدکاموقع آگیامامون نے حضرت سے کہلابھیجاکہ آپ سواری پرجاکرلوگوں کونمازعیدپڑھائیں حضرت نے فرمایاکہ میں نے پہلے ہی تم سے شرط کرلی ہے کہ بادشاہت اورحکومت کے کسی کام میں حصہ نہیں لوں گااورنہ اس کے قریب جاؤں گا اس وجہ سے تم مجھ کو اس نمازعیدسے بھی معاف کردوتوبہترہے ورنہ میں نمازعیدکے لے اسی طرح جاؤں گا جس طرح میرے جدامجدحضرت محمد رسول اللہ صلعم تشریف لے جایاکرتے تھے مامون نے کہاکہ آپ کواختیارہے جس طرح چاہیں جائیں اس کے بعداس نے سواروں اورپیادوں کوحکم دیاکہ حضرت کے دروازے پہ حاضرہوں۔ جب یہ خبرشہرمیں مشہورہوئی تولوگ عیدکے روزسڑکوں اورچھتوں پرحضرت کی سواری کی شان دیکھنے کوجمع ہوگئے، اکی بھیڑلگ گئی عورتوں اورلڑکوں سب کوآرزو تھی کہ حضرت کی زیارت کریں اورآفتاب نکلنے کے بعدحضرت نے غسل کیااورکپڑے بدلے، سفیدعمامہ سرپرباندھا،عطرلگایااورعصاہاتھ میں لے کرعیدگاہ جانے پرآمادہ ہوگئے اس کے بعدنوکروں اورغلاموں کوحکم دیاکہ تم بھی غسل کرکے کپڑے بدل لواوراسی طرح پیدل چلو۔ اس انتظام کے بعدحضرت گھرسے باہرنکلے پائجامہ آدھی پنڈلی تک اٹھالیا کپڑوں کوسمیٹ لیا، ننگے پاؤں ہوگئے اورپھردوتین قدم چل کرکھڑے ہوگئے اورسرکو آسمان کی طرف بلند کرکے کہا اللہ اکبراللہ اکبر، حضرت کے ساتھ نوکروں، غلاموں اورفوج کے سپاہیوں نے بھی تکبرکہی راوی کابیان ہے کہ جب امام رضاعلیہ السلام تکبرکہتے تھے توہم لوگوں کومعلوم ہوتاتھا کہ درودیواراورزمین آسمان سے حضرت کی تکبیرکاجواب سنائی دیتاہے اس ہیبت کودیکھ کریہ حالت ہوئی کہ سب لوگ اورخود لشکروالے زمین پرگرپڑے سب کی حالت بدل گئی لوگوں نے چھریوں سے اپنی جوتیوں کے کل تسمے کاٹ دئیے اورجلدی جلدی جوتیاں پھینک کرننگے پاؤں ہوگئے شہربھرکے لوگ چینخ چینخ کررونے لگے ایک کہرام بپاہوگیا۔اس کی خبرمامون کوبھی ہوگئی اس کے وزیرفضل بن سہل نے اس سے کہاکہ اگرامام رضااسی حالت سے عیدگاہ تک پہنچ جائیں گے تومعلوم نہیں کیافتنہ اورہنگام برپاہوجائے گا سب لوگ ان کی طرف ہوجائیں گے اورہم نہیں جانتے کہ ہم لوگ کیسے بچیں گے وزیرکی اس تقریرپرمتنبہ ہوکرمامون نے اپنے پاس سے ایک شخص کوحضرت کی خدمت میں بھیج کرکہلابھیجاکہ مجھ سے غلطی ہوگئی جوآپ سے عیدگاہ جانے کے لیے کہا اس سے آپ کوزحمت ہورہی ہے اورمیں آپ کی مشقت کوپسندنہیں کرتا بہترہے کہ آپ واپس چلے آئیں اورعیدگاہ جانے کی زحمت نہ فرمائیں پہلے جوشخص نمازپڑھاتاتھا وہ پڑھائے گا یہ سن کرحضرت امام رضاعلیہ السلام واپس تشریف لائے اورنمازعیدنہ پڑھاسکے ۔حضرت امام رضاکی مدح سرائی اوردعبل خزاعی اورابونواسعرب کے مشہورشاعرجناب دعبل خزاعی کانام ابوعلی دعبل ابن علی بن زرین ہے آپ ۱۴۸ ہجری میں پیداکر ۲۴۵ ہجری میں بمقام شوش وفات پاگئے (رجال طوسی ۳۷۶) ۔اورابونواس کاپورانام ابوعلی حسن بن ہانی ابن عبدالاول ہوازی بصری بغدادی ہے یہ ۱۳۶ ہجری میں پیداہوکر ۱۹۶ ہجری میںفوت ہوئے دعبل آل محمدکے مدح خاص تھے اورابونواس ہارون رشیدامین ومامون کاندیم تھا۔دعبل خزاعی کے بے شماراشعارمدح آل محمدمیں موجودہیں علامہ شبلنجی تحریرفرماتے ہیں کہ جس زمانہ میں حضرت امام رضاعلیہ السلام ولی عہدسطلنت تھے دعبل خزاعی ایک دن دارالسلطنت مرومیں آپ سے ملے اورانہوں نے کہاکہ حضورمیں نے آپ کی مدح میں ۱۲۰ اشعارپرمشتمل ایک قصیدہ لکھاہے میری تمناہے میں اسے سب سے پہلے حضورہی کوسناؤں حضرت نے فرمایابہترہے، پڑھو:دعبل خزاعی نے اشعارپڑھناشروع کیا قصیدہ کامطلع یہ ہے:ذکرت محل الربع من عرفاتفاجریت دمع العین بالعبرات جب دعبل قصیدہ پڑھ چکے توامام علیہ السلام نے ایک سواشرفی کی تھیلی انہیں عطافرمائی دعبل نے شکریہ اداکرنے کے بعد اسے واپس کرتے ہوئے کہاکہ مولا میں نے یہ قصیدہ قربة الی اللہ کہاہے میں کوئی عطیہ نہیں چاہتا خدانے مجھے سب کچھ دے رکھاہے البتہ حضوراگرمجھے جسم سے اترے ہوئے کپڑے عنایت فرما دیں ،تووہ میری عین خواہش کے مطابق ہوگا آپ نے ایک جبہ عطاکرتے ہوئے فرمایاکہ اس رقم کوبھی رکھ لو یہ تمہارے کام آئے گی دعبل نے اسے لے لیا۔تھوڑے عرصہ کے بعد دعبل مروسے عراق جانے والے قافلے کے ساتھ ہوکر روانہ ہوئے راستہ میں چوروں نے اورڈاکوں نے حملہ کرکے سب کچھ لوٹ لیا اورچند آدمیوں کوگرفتاربھی کرلیا جن میں دعبل بھی تھے ڈاکوؤں نے مالی تقسیم کرتے وقت دعبل کاایک شعرپڑھا دعبل نے پوچھایہ کس کاشعرہے انہوں نے کسی کاہوگا دعبل نے کہاکہ یہ میراشعرہے اس کے بعدانہوں نے ساراقصیدہ سنادیا ان لوگوں نے دعبل کے صدقے میں سب کوچھوڑدیا اورسب کامال واپس کردیا یہاں تک کہ یہ نوبت آئی کہ ان لوگوں نے واقعہ سن کرامام رضاکادیاہواجبہ خریدناچاہا،اوراس کی قیمت ایک ہزاردینارلگائی دعبل نے جواب دیا کہ یہ میں نے بطورتبرک اپنے پاس رکھاہے اسے فروخت نہ کروں گا بالآخرباربار گرفتارہونے کے بعد انہوں نے اسے ایک ہزاراشرفی پرفروخت کردیا ۔علامہ شبلنجی بحوالہ ابوصلت ہروی لکھتے ہیں کہ دعبل نے جب امام رضاکے سامنے یہ قصیدہ پڑھاتھاتوآپ رورہے تھے اورآپ نے دوبیتوں کے بارے میں فرمایاتھاکہ یہ اشعارالہامی ہیں (نورالابصارص ۱۳۸) ۔علامہ عبدالرحمن لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام نے قصیدہ سنتے ہوئے نفس زکیہ کے تذکرہ پرفرمایاکہ ائے دعبل اس جگہ ایک شعرکااوراضافہ کرو، تاکہ تمہاراقصیدہ مکمل ہوجائے انہوں نے عرض کی مولافرمائیے ارشادہوا:وقبربطوس نالہا من مصیبةالحت علی الاحشاء بالزفرات دعبل نے گھبراکے پوچھامولا، یہ کس کی قبرہوگی، جس کاحضورنے حوالہ دیاہے فرمایاائے دعبل یہ قبرمیری ہوگی اورمیں عنقریب اس عالم میں غربت میں جب کہ میرے اعزاواقرباء بال بچے مدینہ میں ہیں شہیدکردیاجاؤں گا اورمیری قبریہیں بنے گی اے دعبل جومیری زیارت کو آئے گاجنت میں میرے ہمراہ ہوگا (شواہدالنبوت ص ۱۹۹) ۔ دعبل کایہ مشہورقصیدہ مجالس المومنین ص ۴۶۶ میں مکمل منقول ہے البتہ اس کامطلع بدلاہواہے علامہ شیخ عباس قمی نے لکھاہے کہ دعبل نے ایک کتاب لکھی تھی جس کانام تھا”طبقات الشعراء“ (سفینة البحار جلد ۱ ص ۲۴۱) ۔ ابونواس کے متعلق علماء اسلام لکھتے ہیں کہ ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے کہا کہ تم اکثرشعارکہتے ہواورپھرمدح بھی کیاکرتے ہولیکن افسوس کی بات ہے کہ تم نے حضرت امام رضاعلیہ السلام کی مدح میں اب تک کوئی شعرنہیں کہااس نے جواب دیاکہ حضرت کی جلالت قدرہی نے مجھے مدح سرائی سے روکاہے میری ہمت نہیں پڑتی کہ آپ کی مدح کروں یہ کہہ کراس نے چندشعرپڑھے جس کاترجمہ یہ ہے:لوگوں نے مجھ سے کہاکہ عمدہ کلام کے ہررنگ اورمذاق کے اشعارسب لوگوں سے سننے والوں کے سامنے موتی جھڑتے ہیں پھرتم نے حضرت کے فضائل ومناقب میں کوئی قصیدہ کیوں نہیں کہا؟ تومیں نے سب کے جواب میں کہہ دیاکہ بھائیوجن جلیل الشان امام کے آبائے کرام کے خادم جبرئیل ایسے فرشتے ہوں ان کی مدح کرنامجھ سے ممکن نہیں ہے ۔ اس کے بعداس نے چنداشعارآپ کی مدح میں لکھے جس کاترجمہ یہ ہے:یہ حضرات آئمہ طاہرین خداکے پاک وپاکیزہ کئے ہوئے ہیں اوران کالباس بھی طیب وطاہر ہے جہاں بھی ان کاذکرہوتاہے وہاں ان پردرودکانعرہ بلندہوجاتاہے جب حسب ونسب بیان ہوتے وقت کوئی شخص علوی خاندان کانہ نکلے تواس کوابتدائے زمانہ سے کوئی فخرکی بات نہیں ملے گی جب خدانے سب سے زیادہ شریف بھی قراردیااورسب پرفضیلت بھی دی، میں سچ کہتاہوں کہ آپ حضرات ہی ملااعلی ہیں اورآپ ہی کے پاس قرآن مجیدکاعلم اورسوروں کے مطالب ومفاہیم ہیں“ مذاہب عالم کے علماء سے حضرت امام رضاکے علمی مناظرے مامون رشیدکوخودبھی علمی ذوق تھا اس نے ولی عہدی کے مرحلہ کوطے کرنے کے بعدحضرت امام علی رضاعلیہ السلام سے کافی استفادہ کیاپھراپنے ذوق کے تقاضے پراس نے مذاہب عالم کے علماء کودعوت مناظرہ دی اورہرطرف سے علماء کوطلب کرکے حضرت امام رضاعلیہ السلام سے مقابلہ کرایاعہدمامون میں امام علیہ السلام سے جس قدرمناظرے ہوئے ہیں ان کی تفصیل اکثرکتب میں موجودہے اس سلسلہ میں احتجاجی طبرسی ،بحار،دمعہ ساکبہ، وغیرہ جیسی کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں ،میں اختصارکے پیش نظرصرف دوچارمناظرے لکھتاہوں۔ عالم نصاری سے مناظرہ مامون رشیدکے عہدمیں نصاری کاایک بہت بڑاعالم ومناظرشہرت عامہ رکھتاتھا جس کانام ”جاثلیق“ تھااس کی عادت تھی کہ متکلمین اسلام سے کہا کرتاتھا کہ ہم تم دونوں نبوت عیسی اوران کی کتاب پرمتفق ہیں اوراس بات پربھی اتفاق رکھتے ہیں کہ وہ آسمان پرزندہ ہیں اختلاف ہے توصرف نبوت محمد مصطفی صلعم میں ہے تم ان کی نبوت کااعتقادرکھتے ہو اورہمیں انکارہے پھرہم تم ان کی وفات پرمتفق ہوگئے ہیں اب ایسی صورت میں کونسی دلیل تمہارے پاس باقی ہے جوہمارے لیے حجت قرارپائے یہ کلام سن کراکثرمناظرخاموش ہوجایاکرتے تھے ۔مامون رشیدکے اشارے پرایک دن وہ حضرت امام رضاعلیہ السلام سے بھی ہم کلام ہواموقع مناظرہ میں اس نے مذکورہ سوال دھراتے ہوئے کہاکہ پہلے آپ یہ فرمائیں کہ حضرت عیسی کی نبوت اوران کی کتاب دونوں پرآپ کاایمان واعتقادہے یانہیں آپ نے ارشادفرمایا، میں اس عیسی کی نبوت کایقینا اعتقادرکھتاہوں جس نے ہمارے نبی حضرت محمدمصطفی صلعم کی نبوت کی اپنے حوارین کوبشارت دی ہے اوراس کتاب کی تصدیق کرتاہوں جس میں یہ بشارت درج ہے جوعیسائی اس کے معترف نہیں اورجوکتاب اس کی شارح اورمصدق نہیں اس پرمیراایمان نہیں ہے یہ جواب سن کرجاثلیق خاموش ہوگیا۔ پھرآپ نے ارشادفرمایاکہ ائے جاثلیق ہم اس عیسی کوجس نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی بشارت دی ،نبی برحق جانتے ہیں مگرتم ان کی تنقیص کرتے ہو، اورکہتے ہو کہ وہ نمازروزہ کے پابندنہ تھے جاثلیق نے کہا کہ ہم تویہ نہیں کہتے وہ توہمیشہ قائم اللیل اورصائم النہاررہاکرتے تھے آپ نے فرمایاعیسی تو
7 اکتوبر 2011 - 20:30
News ID: 270590
واقعہ حجاب - حضرت امام رضاعلیہ السلام اورنمازعید- حضرت امام رضاکی مدح سرائی اوردعبل خزاعی اورابونواس -عالم نصاری سے مناظرہ -عالم یہو دسے مناظرہ-آپ کی تصانیف